Blog

مسلمانوں کی حدیث کی کتابوں میں اختلاف

ڈاکٹر حمید اللہ

حدیثوں کو مدون کرنے اور اس کو محفوظ کرکے ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک پہنچانے کا عمل سرکاری نگرانی میں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا، نہ خلفائے راشدین کے زمانے میں بلکہ پرائیوٹ طور پر مختلف افراد اپنی ذاتی ذمہ داری پر یہ کام کرتے رہے۔ پھر ایک استاد کے درس میں آنے والے بالفرض دس پندرہ شاگرد تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوسکتیں۔ ایک ہی استاد کی بیان کردہ حدیث کو اس کے سامعین میں سے وہ شخص روایت کرتے ہیں اور اس انفرادی فرق کی وجہ سے اس میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ بعض وقت لفظ بہ لفظ حدیث کی روایت کرنے کی جگہ اس کا خلاصہ یا اس کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ ایسے نازک مقامات بھی آتے ہیں کہ لفظ کے بدلنے سے مفہوم میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک آدمی کا حافظہ اچھا ہوتا ہے، دوسرے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے یا کسی ایک شخص کا ایک زمان میں حافظہ ٹھیک ہے، اس کے بعد مثلاً بڑھاپے کی وجہ سے اس کا حافظہ کمزور ہوگیا ہے اور اس کے باوجود اپنے تدریسی کام کو جاری رکھتا ہے۔ انہی وجوہ سے حدیثوں میں باہم تضاد بھی نظر آسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ راوی سے غلطی ہوئ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداً ایک حکم دیا اور بعد میں اسے کسی نہ کسی وجہ سے منسوخ کردیا اور نیا حکم دیا۔ ان حالات میں “الف” صحابی کے پاس پہلے دن کی بات تو موجود ہے لیکن دوسرے دن کی بات یا دوسری مرتبہ بیان کی ہوئ بات موجود نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بیان کردہ حدیث اور دوسرے شخص یعنی بعد والے صحابی کی بیان کردہ حدیث میں اختلاف ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض وقت امت کی صلاحیتوں کے پیش نظر یا کسی خاص سیاق وسباق میں ایک حکم دیا جاتا ہے اور بعد میں اسے بدلنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں عرض کرچکا ہوں یعنی کھجور کے نر اور مادہ پھولوں کو ملانے کا مسئلہ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداً صراحت کے ساتھ اس کا حکم دیا، بعد میں صراحتاً اسے منسوخ بھی فرمایا۔

ایک اور مثال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ قبر پرستی انسانی سوسائٹی میں ایک عام مرض رہا ہے۔ عرب میں بھی اسلام سے پہلے اس کا رواج تھا، آج بھی ہم میں پایا جاتا ہے۔ غالباً اس کو روکنے کی غرض سے (تاکہ آدمی قبر میں سونے والوں سے مانگنے کی بجائے خدا سے مانگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت ہی کی ممانعت فرمادی۔ کچھ عرصہ بعد ان الفاظ کے ساتھ اس کی مکرر اجازت دے دی۔ “کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور الا فزوروھا” (میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، سنو! اب تم زیارت کرسکتے ہو) اس دوسرے حکم کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بدل گئ بلکہ یہ کہ سیاق و سباق بدل گیا۔ قبر پرستی سے بے شک روکنا چاہتے تھے لیکن قبرستان میں جانے سے جو عبرت ہوتی ہے، یعنی ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں بھی ایک روز مرنا ہے تو کیا ہمیں اس کے لیے تیار نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں جھوٹ، دغابازی اور فریب وغیرہ پر ہی قائم رہنا چاہیے؟ تو عبرت حاصل کرنے کی خاطر آپ نے اجازت دے دی۔ غرض حدیث میں اختلاف ایک طرف فرقہ وارانہ ہے اور دوسری طرف ایک فرقے کے اندر بھی ہے۔ ان دشواریوں کو دور کرنے کے لیے ماہرین علم حدیث نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اس کو انہوں نے مختلف تدبیروں کے ذریعہ سے حل کیا، مثلاً ایک خصوصیت جو مسلمانوں ہی میں پائ جاتی ہے دوسری قوموں میں عملاً غیر موجود ہے وہ یہ کہ حوالہ نامکمل نہ ہو۔ مثلاً میں آج سے چودہ سو برس پہلے کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یوں کرو یہ نامکمل حوالہ ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر میں بیان کروں کہ میرے استاد “الف” نے کہا کہ اسے اس کے استاد “ب” نے “ج” نے اس طرح تمام استادوں کا نسلاً بعد نسل ذکر کرتے ہوئے کہوں کہ آخری استاد فلاں صحابی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے تو وہ حوالہ مکمل ہوگا۔ چنانچہ حدیث کی کتابوں میں ہر آدھی سطر یا ایک سطر کی جو حدیث ہوتی ہے، اس کے شروع میں ایک لمبی فہرست ہوتی ہے کہ عن فلاں، عن فلاں عن فلاں۔ مثلاً بخاری جو قدیم ترین مؤلفوں میں سے ایک ہیں، ان کی حدیثیں بعض دفعہ تین درمیانی راویوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی ہیں اور زیادہ سے زیادہ نو تک۔ گویا ڈھائ تین سو سال کے عرصے میں نو پشتیں راویوں کی آچکی تھیں۔ اس بات کی تحقیق کے لیے کہ حوالہ مکمل ہے یا نہیں، یہ ضروری ہے کہ ہمارے سامنے ایسی کتب ہوں جن میں ہر راوی کی سوانح موجود ہو۔ مثلاً یہ بیان کیا جائے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد “الف” “ب” “ج” تھے اور پھر میرے سامنے ایک روایت آتی ہے جس میں عن فلاں ، عن فلاں، عن فلاں، کرتے ہوئے مثلاً “ب” یا “ج” نامی شخص بیان کرتا ہے کہ “حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا” تو اس کتاب کی مدد سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ چونکہ یہ سب راوی ثقہ ہیں اور استاد شاگرد رہے ہیں، اس لیے یہ روایت قابل قبول ہے، یہ بھی کہ ہر ایک کا ذاتی کردار کیسا تھا۔ یا اس کا حافظہ اچھا تھا یا نہیں، یہ بھی کہ اس کے استاد کون کون تھے۔ اور شاگرد کون کون تھے، تاکہ اس قسم کی سوانح عمریوں کی مدد سے ہم استاد کو جانچ سکیں اور یہ معلوم کرسکیں کہ راویوں کی تاریخ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ واقعی صحیح ہے یا فرضی ہے۔ اس کے بعد علم اصول حدیث وجود میں آیا، جس میں یہ بیان کیا جانے لگا کہ اگر حدیثوں میں ایسی باتیں نظر آئیں جو خلاف عقل ہوں یا حدیثوں میں فلاں فلاں عیب یا کمی ہو، تو ایسی صورتوں میں ہم کیا کریں؟ کس طرح ان گتھیوں کو سلجھائیں! چنانچہ روایت اور درایت کے دو اصول مسلمانوں نے اختیار کیے۔ روایت کے اصول کے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ حدیث کو بیان کرتے ہیں آیا وہ بیان کرنے والے فرضی ہیں یا حقیقی، قابل اعتماد ہیں یا جھوٹ بولنے والے ہیں۔ استاد شاگرد ہیں یا نہیں؟ یہ روایتاً حدیث کو کنٹرول کرنے یا جانچنے کا طریقہ ہے۔ درایت کے اصول کے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ حدیث میں جو بات بیان کی گئ ہے وہ عقلاً درست ہے یا نہیں۔ فرض کیجئے ایک حدیث میں ذکر آتا ہے کہ مثلاً شہر بہاولپور میں فلاں چیز ہوگی۔ لیکن درایتاً اس زمانے میں شہر بہاولپور موجود تھا ہی نہیں، یہ ذکر کیسے آیا۔ لہٰذا ہم یہ نتیجہ اخذ کری گے کہ غالباً یہ سہو کتاب ہے، یا یہ کہ حدیث جعلی ہے اس شہر کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہاولپور بیان نہ کیا ہوگا، بلکہ اور لفظ ہوگا جو بگڑ کر بہاولپور بن گیا۔ یہ اور اس طرح کی چیزیں ہم درایت سے معلوم کرسکتے ہیں اور ان اصولوں کے مطابق ہم ان دشواریوں کو حل کرسکتے ہیں جو حدیث کے اندر نظر آتی ہیں۔ اسی طرح دو حدیثوں میں اختلاف کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک میں کہا گیا ہے کہ یہ کام کرو، دوسری میں ہے کہ نہ کرو۔ تو ان دشواریوں کو جن طریقوں سے دور کیا جاسکتا ہے، وہ “علم اصول حدیث” کی کتابوں میں ملتا ہے۔ مثلاً یہ بات ممکن ہے کہ ایک حکم قدیم ہو، دوسرا حکم جدید ہو تو جدید ترین حکم قدیم حکم کو منسوخ کردے گا۔ یا یہ کہ ایک حکم خاص ہے، دوسرا حکم عام ہے۔ ایک شخص کو یہ کہا گیا کہ یوں کرو یا یوں نہ کرو اور دوسرے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ تم یہ کام کرسکتے ہو۔ ایک مثال ذہن میں آتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک شکایت کی کہ مدینہ کی آب و ہوا ہمیں موافق نہیں آرہی ہے، ہم فلاں فلاں بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، سرکاری جانوروں کے ریوڑ میں جاکر رہو اور سرکاری اونٹوں اور اونٹنیوں کے دودھ اور ان کے پیشاب پیو۔ بظاہر یہ بات ہمیں حیران کن معلوم ہوتی ہے کہ پیشاب پینے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے، جب کہ وہ نجس چیز ہے۔ اس مشکل کا حل ہمیں اصول روایت یا درایت کے ذریعے ملتا ہے اور یہ ٹیکنیکل چیز بھی ہے جو میری آپ کی رائے پر مبنی نہیں، بلکہ طبیبوں اور ڈاکٹروں کی رائے پرمبنی ہوگی۔ مثلاً زہر ہمارے لیے سم قاتل ہے لیکن ایک ڈاکٹر کسی خاص بیماری میں مریض کے لیے زہر ہی تجویز کرتا ہے۔ زہر کے بغیر اس کا کوئ علاج ممکن نہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئ خاص بیماری اونٹوں کے پیشاب کے بغیر دور نہ ہوسکتی ہو۔ جب کوئ اور چارہ کار نہ ہوتو ممنوع اور مکروہ چیزیں جائز ہوجاتی ہیں۔ اونٹنیوں کے پیشاب کے متعلق بعض ہمعصر سیاح بیان کرتے ہیں کہ وہ آج بھی بعض بدوی قبائل میں کچھ مخصوص بیمارییوں کے علاج کے لیے مستعمل ہے۔ غرض مختلف طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم حدیثوں کی اندرونی دشواریوں کو دور کرسکتے ہیں اور اس سے ہمارے علماء غافل نہیں رہے۔ گزشتہ چودہ سو سال سے وہ اس پر توجہ کرتے رہے ہیں اور ہم آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حدیثوں کی صحت کو جانچنے کا جو وسیلہ یا طریقہ ہمارے پاس ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی اور قوم میں نہیں پایا جاتا۔ میں اپنے عیسائ بھائیوں کو ناراض کیے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی انجیل پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا، جتنا ہماری بخاری، مسلم اور ترمذی پر کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ انجیل کی تدوین، انجیل کا تحفظ، انجیل کا نسل بعد نسل منتقل ہونا، اس طریقے سے عمل میں نہیں آیا جس طریقے سے حدیث کی کتابوں میں عمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تین سو سال بعد تک انجیلوں کے متعلق ہمیں کوئ علم نہیں کہ کس نے اس کو لکھا، کس نے اس کا ترجمہ کیا اور کس نے اسے نقل کیا، اصل زبان سے یونانی زبان میں کس کے حکم سے منتقل کیا گیا۔ آیا کاتبوں نے صحت کا التزام رکھا یا نہیں۔ تین سو سال بعد چار انجیلوں کا ذکر ہمیں پہلی مرتبہ ملتا ہے۔ کیا ہم ایسی بلاسند کتاب پر اعتماد کریں یا بخاری پر جو ہر دوسطری بیان کو بھی تین سے لے کر حوالوں تک بیان کرتا ہے کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا ہے۔ لیکن اس کا ثبوت کیا ہے کہ بخاری نے سچ بیان کیا ہو، ممکن ہے کہ انہوں نے گھڑ لیا ہو اور راویوں سے منسوب کردیا ہو کہ مجھے “الف” نے “ب” سے اور “ب” نے “د” سے، اسی طرح رسول اللہ تک پہنچا ہو۔ اعتراض عقلاً بالکل صحیح ہے لیکن حقیقتاً بے بنیاد اعتراض ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بخاری سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جن محدثین نے حدیث کی روایت کی ہے ان کی کتابیں بھی ہمیں موجود ملتی ہیں۔ لہٰذا بخاری پر ہمیں شبہ کرنے کی کوئ وجہ نہیں نظر آتی۔ مثال کے طور پر بخاری کہتے ہیں مجھے یہ حدیث امام احمد بن حنبل رح نے بیان کی اور کہا کہ مجھے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کی جنہوں نے کہا کہ میرے استاد معمر نے بیان کیا تھا۔ معمر نے کہا کہ مجھے میرے استاد ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سن کر بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ہے۔ بخاری کی کتاب ہمارے پاس موجود ہے۔ درمیانی روایتوں کا ہمارے پاس کوئ وجود نہ ہو تو ہم علمی نقطہ نظر سے فرض کرسکتے ہیں کہ شاید امام بخاری نے جھوٹ کہا ہو۔ لیکن اگر ہمیں احمد حنبل کی کتاب مل جائے جو امام بخاری کے استاد ہیں اور اس میں من و عن وہی حدیث انہی الفاظ مین ایک شوشے کے فرق کے بغیر ملے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ امام بخاری جھوٹے نہیں، کیونکہ احمد بن حنبل کے پاس واقعی وہی حدیث انہیں الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ امام احمد بن حنبل پر ہم شبہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت جب کہ ان کا بیان ہے کہ مجھے عبدالرزاق بن ہمام رح نے بیان کیا تھا اور عبدالرزاق بن ہمام کی کتاب موجود نہ ہو۔ الحمد اللہ! احمد بن حنبل کی “مسند” کی طرح عبدالرزاق بن ہمام کی “مصنف” بھی دنیا میں موجود ہے۔ اب چھپ کر شائع ہوچکی ہے۔ بعض حدیثوں کے متعلق تلاش کیا گیا کہ یہ کہاں ہیں، وہ بھی بالکل انہی الفاظ میں بیان کرتے ہیں جن الفاظ میں بخاری کے ہاں ہے۔ اسی طرح ان کے استاد معمر بن راشد کی کتاب “الجامع” ہمیں مل گئ ہے۔ اس کے اندر بھی وہی حدیث جو بخاری نے بیان کی تھی انہیں الفاظ میں موجود ہے۔ اسی طرح ان کے استاد ہمام بن منبہ کا “صحیفہ” بھی دستیاب ہوچکا ہے اور چھپ چکا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام بخاری نے جو چیزیں بیان کیں وہ بالکل صحیح ہیں، کیونکہ ان کی کتابیں جو بخاری کا ماخذ ہیں دستیاب ہوچکی ہیں اور ان کے اندر وہی الفاظ موجود ہیں۔ ان حالات میں عقل کہتی ہے کہ بے وجہ شبہ کرنا نامناسب بات ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرلیں کہ امام بخاری رح کی بیان کردہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ پھر کچھ چیزیں ایسی ملتی ہیں جن سے ایک دوسرے کی تصدیق ہوئ ہ۔ مثلا ایک دوسرے سلسلسہ اسناد سے امام ترمذی رح نے وہی حدیث بیان کی ہے تو یہ ناممکن ہے کہ پچاس آدمی جو مختلف ادوار سے متعلق ہیں، جھوٹ پر پیشگی متفق ہوگئے ہوں۔ غرض یہ ٹیکنیکی اصول ہیں جن کا استعمال حدیث کے متعلق کیا گیا ہے اور دنیا کی کوئ کتاب حتیٰ کہ مقدس ترین کتب توریت، انجیل وغیرہ میں بھی التزام صحت کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا جتنا حدیث کے متعلق ہمیں ملتا ہے۔ اصولاً یہ بیان صحیح ہے کہ حدیث کی کتابوں میں جو سنیوں کی حدیثیں ہیں اور جو شیعوں کی حدیثیں ہیں، ان میں اختلاف ہو۔ لیکن عملاً ایسا نظر آتا ہے کہ مفروضہ ہی ہے۔ راویوں کا بے شک فرق ہے۔ مثلاً میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت پر ایک چیز بیان کرتا ہوں، وہی بات میرا شیعہ بھائ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت پر بیان کرتا ہے، تو یہ مفروضہ کہ شیعہ سنی کی ساری حدیثوں میں فرق ہے، غلط ہے۔ فرق صرف روایت کرنے والوں میں ہے، حدیث کے مندرجات میں فرق نہیں ہے۔ تضاد شاذ و نادر ہوگا۔ اب تک کوئ ایسی خاص چیز ملی بھی نہیں، جس سے یہ کہا جائے کہ شیعہ کتابوں میں الف، چیز کا حکم ہے اور سنی کتابوں میں اس کے بالکل برعکس الف، کی ممانعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اختلافی باتیں جو ہمیں نظر آسکتی ہیں ان کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ سنی خاص کر حنفی، شافعی اور حنبلی نمازوں میں ہاتھوں کو سینے پر باندھتے ہیں اور ہمارے شیعہ بھائ ہاتھوں کو چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ حدیثوں میں اختلاف ہے بلکہ اس لیے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی۔ بعض اوقات ہاتھ چھوڑ کر پڑھی۔ یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے مثلاً فرض کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں زخمی ہوگئے اور ہاتھ باندھ نہیں سکتے تھے، کیا کریں، ہاتھ چھوڑ کر ہی پڑھیں گے۔ ایک شخص نے دیکھا کہ رسول اللہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر اسے موقع نہیں ملا کہ کچھ عرصہ بعد دیکھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہے ہیں تو وہ اسی سنت پر عمل کرے گا جس کو وہ دیکھ چکا ہے۔ یہ چیز ایک پہلو سے ہمارے لیے اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ میرے استاد نے آج سے کوئ ساٹھ پینسٹھ سال پہلے پرائمری اسکول میں یہ نکتہ بیان کیا تھا، جسے میں کبھی بھول نہیں سکتا کہ اللہ کو اپنے حبیب سے جو محبت تھی، اس کی خاطر اللہ نے چاہا کہ اپنے حبیب کی ہر ہر حرکت کو قیامت تک محفوظ رکھے، لہٰذا چند لوگوں کے ذریعہ سے مثلاً شیعہ فرقے کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حرکت محفوظ کرلی گئ۔ کہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حرکت ایک دوسرے گروہ کے ذریعے سے اللہ نے قیامت تک کے لیے محفوظ رکھی۔ اس طرح جو اختلاف عمل میں نظر آتا ہے وہ حدیث کی غلطی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مختلف زمانوں کے عملوں اور حرکتوں پر مبنی ہے۔ اس لیے ہمیں باہم ایک دوسرے کا متحمل ہونا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button